ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوٹ بند ی کا مسئلہ کافی سنگین ہے ، سڑکوں پر فسادات ہو جائیں گے، عوامی مشکلات سے حکومت انکارنہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ کا تلخ تبصرہ

نوٹ بند ی کا مسئلہ کافی سنگین ہے ، سڑکوں پر فسادات ہو جائیں گے، عوامی مشکلات سے حکومت انکارنہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ کا تلخ تبصرہ

Sat, 19 Nov 2016 11:50:38    S.O. News Service

نئی دہلی، 18؍نومبر (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )ایک ہی ہفتے میں دوسری بارمرکزی حکومت کو نوٹ بند ی کے معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے سخت سوالوں کاسامناکرناپڑاہے اورجمعہ کو عدالت نے کہاکہ سڑکوں پر فسادات ہو جائیں گے ، اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو کوئی راحت نہیں دیتے ہوئے کسی بھی نچلی کورٹ یا ہائی کورٹ میں نوٹ بند ی سے منسلک کسی بھی معاملے کی سماعت پر روک لگانے سے انکار کر دیاہے ۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے 500اور 1000روپے کے نوٹوں کو اچانک بندکئے جانے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ بہت سنگین ہے۔الگ الگ ہائی کورٹوں میں چل رہے مقدمات کی سماعت پر روک سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ان معاملات کو ٹرانسفر کروانے کے لیے ٹرانسفرعرضی داخل کرنی ہوں گی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ نوٹ بند ی سے لوگوں کو دقتیں ہو رہی ہیں، اور اس حقیقت سے مرکزی حکومت انکار نہیں کر سکتی ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ صورت حال سنگین ہو رہی ہے، اور ایسے حالات میں گلیوں میں فسادات بھی ہو سکتے ہیں۔چیف جسٹس کے مطابق، یہ معاملہ ’ہائی میگنی ٹیوڈ‘کا ہے، کیونکہ اس سے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سب لوگ راحت کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں نہیں آ سکتے، اور جو لوگ راحت کے لیے عدالت جا رہے ہیں، وہ ثابت کر رہے ہیں کہ حالات سنگین ہیں۔

چیف جسٹس نے حکومت سے سوال کیاکہ آپ نے 500اور 1000روپے کے نوٹوں کو بند کیا ہے، لیکن 100روپے کے نوٹ کا کیا ہوا؟جواب میں حکومت نے کہا کہ موجودہ وقت میں اے ٹی ایم مشینوں میں صرف 100روپے کے نوٹوں کے لیے ایک ہی ڈراو ر لگا ہوا ہے، اس لیے نئے نوٹوں کے لحاظ سے انہیں ری کیلی بریٹ کرنا ہوگا۔لیکن عدالت نے اس کے بعد بھی سوال کیا ۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہاکہ پچھلی بار آپ نے کہا تھا کہ آپ عوام کو راحت دینے کی سمت میں کام کر رہے ہیں، لیکن آپ نے تو رقم کو کم کرکے 2000روپے کر دیا، مسئلہ کیا ہے؟ کیا یہ نوٹوں کی پرنٹنگ سے جڑا مسئلہ ہے؟قابل ذکرہے کہ حکومت نے جمعہ سے ہی پرانے نوٹوں کے بدلے نئے نوٹ دینے کے لیے 4500روپے کی حد کو کم کرکے 2000روپے کر دیا ہے، اور اس کا دعوی ہے کہ اس قدم سے زیادہ لوگوں کو نقد رقم مل سکے گی۔حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل نے کہاکہ صرف پرنٹنگ ہی نہیں، نوٹوں کو ملک بھر میں پھیلے بینکوں کی لاکھوں شاخوں تک پہنچانا بھی ہے، اور اے ٹی ایم کو بھی ری کیلی بریٹ کیا جانا ہے۔ویسے، ہم نے کسانوں، شادیوں اور چھوٹے تاجروں کو راحت دی ہے۔


Share: